5018- عن أبي التياح قال: قلت لعبد الرحمن بن حبيش وكان شيخا كبيرا: "أدركت النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم، قلت كيف صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة كادته الشياطين؟ قال: جاءت الشياطين إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من الأودية، وتحدرت عليه الجبال، وشيطان معه شعلة نار، يريد أن يحرق بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فأرعب منهم، وجعل يتأخر وجاءه جبريل عليه السلام، فقال "يا محمد قل، قال ما أقول؟ قال قل: أعوذ بكلمات الله التامات التي لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق، وذرأ وبرأ، ومن شر ما ينزل من السماء، ومن شر ما يعرج فيها، ومن شر ما ذرأ في الأرض، ومن شر ما يخرج منها، ومن شر فتن الليل والنهار، ومن شر كل طارق، إلا طارقا يطرق بخير، يا رحمن"، فطفئت نار الشياطين، وهزمهم الله تعالى". "ش حم والبزار والحسن بن سفيان وأبو زرعة في مسنده وابن منده وأبو نعيم ق معا في الدلائل" وهو صحيح. ومر برقم [3980] .
5018: ۔۔ ابو التیاح سے مروی ہے میں نے عبدالرحمن بن حبیش سے جو بڑی عمر کے بزرگ تھے پوچھا : آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پایا ہے ؟ فرمایا : ہاں میں نے پوچھا اس رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا کہا جب شیطان آپ کے قریب آگئے تھے ؟ فرمایا : شیاطین مختلف وادیوں سے اکٹھے ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے تھے اور پہاڑ بھی آپ پر اتر آئے تھے۔ بڑا شیطان آگ کا شعلہ لے کر آپ کے قریب آیا تاکہ آپ کو اس کے ساتھ جلا دے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وقتی طور پر) ان سے مرعوب ہوگئے اور پیچھے ہٹنے لگے تھے۔ پھر جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور فرمایا کہو : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا کہوں ؟ فرمایا یہ کہو !
أعوذ بکلمات اللہ التامات التی لا يجاوزهن بر ولا فاجر من شر ما خلق ، وذرأ وبرأ ، ومن شر ما ينزل من السماء ، ومن شر ما يعرج فيها ، ومن شر ما ذرأ في الارض ، ومن شر ما يخرج منها ، ومن شر فتن الليل والنهار ، ومن شر کل طارق ، الا طارقا يطرق بخير ، يا رحمن ۔
میں اللہ کے تام کلمات کی پناہ مانگتا ہوں جن سے نیک تجاوز کرسکتا اور نہ بد ہر چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور جس کو اس نے وجود بخشا اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین کے شر سے جو زمین سے نکلتی ہے، اور رات و دن کے فتنوں کے شر سے اور ہر رات کو آنے والے کے شر سے سوائے اس کے جو خیر ساتھ لائے اے رحمن ذات۔
پس آپ کا یہ پڑھنا تھا کہ شیاطین کی آگ بجھ گئی اور اللہ نے ان کو شکست دے دی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، البزار، حسین بن سفیان، ابوذر عفی مندہ، ابن مندہ، ابو نعیم والبیہقی معا فی الدئال روایت صحیح ہے۔