5022- عن سويد بن غفلة قال: "أصابت عليا خصاصة، فقال لفاطمة: لو أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فسألته، فأتته وكان عنده أم أيمن فدقت الباب، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لأم أيمن: إن هذا لدق فاطمة، ولقد أتتنا في ساعة ما عودتنا أن تأتينا في مثلها، فقالت: يا رسول الله هذه الملائكة طعامها التهليل والتسبيح والتحميد، ما طعامنا؟ قال: والذي بعثني بالحق ما اقتبس في بيت آل محمد منذ ثلاثين يوما، ولقد أتتنا أعنز فإن شئت أمرنا لك بخمس أعنز، وإن شئت علمتك خمس كلمات علمنيهن جبريل، فقالت: بل علمني الخمس كلمات التي علمكهن جبريل قال قولي: يا أول الأولين، ويا آخر الآخرين، ويا ذا القوة المتين، ويا راحم المساكين، ويا أرحم الراحمين، فانصرفت، فدخلت على علي، فقال: ما وراءك؟ فقالت: ذهبت من عندك للدنيا، وأتيتك بالآخرة
فقال: خير أيامك". "أبو الشيخ في جزء من حديثه" ولم أر في رجاله من جرح إلا أن صورته صورة المرسل فإن كان سويد سمعه من علي فهو متصل.
5022: ۔۔ سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ حضرت علی (رض) کو ضرورت اور فاقہ کشی کی نوبت آگئی حضرت علی (رض) نے حضرت فاطمہ (رض) کو فرمایا : اگر تم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر آپ سے سوال کرو (تو شاید کوئی صورت نکل آئے) حضرت فاطمہ (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازے پر آئیں اور دروازہ کھٹکھٹایا حضور کے پاس ام ایمن بیٹھی ہوئی تھیںَ آپ (رض) نے ان کو فرمایا : یہ تو فاطمہ کے دروازے کھٹکھٹانے کا انداز ہے۔ اور وہ ایسے وقت تو ہمارے پاس نہیں آیا کرتی۔ پھر حضرت فاطمہ (رض) اندر تشریف لائیں اور اپنے و الد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ان ملائکہ کا کھانا تسبیح و تہلیل اور تحمید ہے لیکن ہمارا کھانا کیا ہے ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات پاک کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے : آل محمد کے گھر بھی تیس دنوں سے چولہا نہیں جلا۔ ہمارے پاس کچھ بکریاں آئی ہیں۔ اگر تم چاہو تو پانچ بکریوں کا ہم تمہارے لیے حکم دے دیتے ہیں اور اگر تم چاہو تو میں تم کو پانچ کلمات سکھا دیتا ہوں جو مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے سکھائے ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : یوں کہا کر :
یا اول الاولین، ویا آخر الاخرین، ویا ذالقوۃ المتین، ویا راحم المساکین ویا ارحم الراحمین۔
چنانچہ حضرت فاطمہ (رض) واپس ہوگئیں اور حضرت علی (رض) کے پاس پہنچیں۔ حضرت علی (رض) نے پوچھا پیچھے کچھ (آ رہا) ہے ؟ حضرت فاطمہ (رض) نے فرمایا : میں آپ کے پاس سے دنیا لینے گئی تھی اور آخرت لے کر واپس آئی ہوں۔ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : یہ بہترین ایام ہیں۔ (ابو الشیخ فی جزء من حدیثہ)
کلام : ۔۔ اس روایت کے رجال میں کوئی راوی متکلم فیہ نہیں ہے ہے اور سب راوی ثقہ مگر اس کی صورت مرسل کی سی ہے لیکن حضرت سوید بن غفلہ نے یہ روایت حضرت علی (رض) سے سنی ہے تو روایت متصل ہے۔