5039- عن ميكائيل شيخ من أهل خرسان قال: "كان عمر إذا قام من الليل قال: قد ترى مقامي وتعلم حاجتي فأرجعني من عندك يا الله بحاجتي، مفلجا منجحا ومستجابا قد غفرت لي ورحمتني، فإذا قضى صلاته، قال: اللهم لا أرى شيئا من الدنيا يدوم، ولا أرى حالا فيها يستقيم، اللهم اجعلني أنطق فيها بعلم، وأصمت فيها بحكم، اللهم لا تكثر لي من الدنيا فأطغى، ولا تقل لي منها فأنسى، وإن ما قل وكفى خير مما كثر وألهى".
5039: ۔۔ اہل خراسان کے میکائیل نامی ایک شیخ سے مروی ہے کہ حضرت عمر (رض) جب رات کو کھڑے ہوتے تو فرماتے :
اے اللہ تو میرے کھڑے ہونے کو جانتا ہے اور میری حاجت کو بھی جانتا ہے پس مجھے یہاں سے اپنی حاجت میں کامیاب واپس لوٹا اس حال میں کہ میری دعا کامیاب اور مقبول ہو اور میں تیری مغفرت اور رحمت کو ساتھ لے کر واپس لوٹوں۔ پھر جب آپ نماز پوری کرکے فارغ ہوتے تو یہ دعا فرماتے :
اللھم لا اری شیئا من الدنیا یدوم، ولا اری حالا فیھا یستقیم، اللھم اجعلنی انطق فیھا بعلم، واصحت فیھا بحکم، اللھم لا تکثر لی من الدنیا فاطعنی، ولا تقل لی منھا فانسی، و ان ما قل و کفی خیر مما کثر والھی۔
اے اللہ ! میں دنیا کی کسی شی کو ہمیشہ رہنے والا نہیں دیکھتا اور نہ اس میں کوئی درست حال دیکھتا ہوں، پس مجھے دنیا میں علم کے ساتھ بولتے، حکمت کے ساتھ خاموش رہنے والا بنا۔ اے اللہ ! دنیا میرے لیے (اس قدر) زیادہ نہ کر کہ میں سرکشی میں پڑجاؤں اور نہ اس قدر تنگ کر کہ مجھے بھلا دیا جائے اور بیشک تھوڑی چیز جو کافی ہوجائے اس کثیر سے بہتر ہے جو لہو و لعب میں مشغول کردے۔