524 – "إن أحدكم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما نطفة ثم يكون علقة مثل ذلك، ثم يكون مضغة مثل ذلك، ثم يبعث الله إليه ملكا ويؤمر بأربع كلمات ويقال له اكتب عمله ورزقه وأجله وشقي أوسعيد ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل منكم ليعمل بعمل أهل الجنة حتى ما يكون بينه وبينها إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل النار فيدخل النار وإن الرجل ليعمل بعمل أهل النار حتى ما يكون بينه وبينها إلا ذراع فيسبق عليه الكتاب فيعمل بعمل أهل الجنة فيدخل الجنة". (ق 4 عن ابن مسعود) .
٥٢٤۔۔ جب تم میں سے کسی کی رحم مادر میں تخلیق کی جاتی ہے تو چالیس دن تک وہ ایک نطفہ کی شکل میں آتا ہے پھر اتنے ہی دنوں میں وہ منجمد خون کی شکل اختیار کرتا ہے پھر اتنے ہی دنوں میں وہ لوتھڑا بنتا ہے پھر اللہ اس کے پاس ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں اور اس کی چار باتوں کا حکم کیا جاتا ہے ۔۔ کہ لکھ اس کا عمل ، رزق، زندگی اور اس کا بدبخت یا نیک بخت ہونا، پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے یقینابعض اوقات کوئی شخص اہل جنت کے اعمال کرتا رہتا ہے۔
حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن اس پر نوشتہ خداوندی غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جہنم کے عمل کرنے لگتا ہے اور انجام کار جہنم میں داخل ہوجاتا ہے ، اور بعض اوقات کوئی شخص اہل جہنم کے اعمال کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن اس پر نوشتہ خداوندی غالب آجاتا ہے اور وہ اہل جنت کے عمل کرنے لگتا ہے اور انجام کار جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ بخاری مسلم، بروایت ابن مسعود۔