5524- من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان. "حم م عن أبي سعيد"1
__________
1 صحيح مسلم في كتاب الإيمان رقم "78" عن أبي سعيد. والترمذي أبواب الفتن باب ما جاء في تغيير المنكر باليد أو باللسان أو بالقلب رقم "2173" وقال الترمذي: هذا حديث حسن صحيح.
وقال في تحفة الأحوذي "6/394": أخرجه مسلم وأحمد في مسنده وأصحاب السنن. ص.
٥٥٢٤۔۔۔ تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے ہٹا دے اور اگر یہ نہ کرسکتا ہو تو زبان سے دور کرے اور اگر اس پر بھی بس نہ چلے تو دل سے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ (مسند احمد، مسلم ٤، عن ابی سعید)
تشریح :۔۔۔ خوب یاد رکھیں ! ہاتھ کا استعمال حکومت کا حق ہے زبان سے روکنا علماء کا کام ہے اور دل سے برا جاننا عوام الناس کا، اب اگر کوئی شخص جا کر ناجائز چیزوں کی توڑ پھوڑ شروع کر دے تو اس سے فساد برپا ہوگا۔