5580- إن بني إسرائيل لما وقع فيهم النقص كان الرجل يرى أخاه يقع على الذنب فينهاه عنه، فإذا كان الغد لم يمنعه ما رأى منه أن يكون أكيله وشريبه وخليطه، فضرب الله قلوب بعضهم ببعض ونزل فيهم القرآن: {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرائيلَ} الآيات حتى تأخذوا على يدي الظالم فتأطروه على الحق أطرا. "ت هـ عن ابن مسعود" "د ت هـ عن أبي عبيدة" مرسلا.
٥٥٨٠۔۔۔ بنی اسرائیل کا زوال اس طرح واقع ہوا کہ آدمی اپنے بھائی کو کسی معصیت میں مشغول دیکھ کر اسے روکتا ، پھر جب آئندہ کل ہوتی تو اسے اس کی معصیت اس کا کھانے پینے اور اس کا ہم مجلس ہونے سے نہ روکتی تو اللہ تعالیٰ نے بعض کے دل بعض سے دے مارے اور ان کے بارے میں قرآن میں نازل فرمایا : (بنی اسرائیل کے ان لوگوں پر لعنت کی گئی جو کافر ہوئے) تاکہ تم ظالم کا ہاتھ روک لو، اور اسے حق پر پوری طرح جھکا دو ۔ (ترمذی، ابن ماجہ عن مسعود، ابوداؤد ترمذی ، ابن ماجہ، عن ابی عبیدۃ، مرسلا)