5728- ما استكبر من أكل مع خادمه وركب الحمار بالأسواق واعتقل الشاة فحلبها. "خد هب عن أبي هريرة".
٥٧٢٨۔۔۔ اس شخص نے تکبر نہیں کیا جس نے اپنے خادم کے ساتھ کھایا اور بازار میں گدھے پر سوار ہوا، اور بکری کو باندھ کر اسے دوھ لیا۔ (بخاری ادب المفرد، بیہقی فی شعب الایمان عن ابوہریرہ (رض) )
آج کل کے مسلمان ملازم اگر صفائی ستھرائی کا اہتمام کریں تو ان کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں، باقی یہ حکم استحبابی ہے وجوبی نہیں، گھر میں جب مہمانوں کی کثرت ہوتی ہے تو عموماً لوگ مہمانوں کو کھانا کھلانے میں محو ہوجاتے ہیں اور خادم کو بہت تاخیر سے کھانا دیتے ہیں، ایک تو وہ خالی پیٹ ہوتا ہے دوم رنگی برنگی اشیاء کو للچائی نظروں سے دیکھتا ہے، بعد میں اسے وہی روٹی ساگ دال پات دیا جاتا ہے تو اس کے ذہن میں قورمہ، فروٹ اور کسٹرڈ کا نقشہ جمع ہوجاتا ہے وہ جونہی دال کا لقمہ منہ میں رکھتا ہے تو اس کے لیے نکلنا یوں مشکل ہوجاتا ہے جیسے پتھر کا نگلنا، اس واسطے خادم کو پہلے کھانا کھلایا جائے، بازار میں گدھے پر سواری ، آج کے دور میں موٹر کار سے ادنی درجے کی سواریاں مراد ہیں ، مثلاً بائیسکل، رکشہ وغیرہ، بکری کو دوہنے سے مراد گھر کا معمولی کام جسے کرنا مرد حضرات اپنی توہین سمجھتے ہیں، مشرق میں یہ بہت غلط رواج ہے کہ ہندو مسلم سب کے سب عورت کو اپنی نوکرانی اور باندی سمجھتے ہیں معمولی درجہ کا کام بھی خود نہیں کرتے، مثلاً کو لریا گھڑے سے پانی لے کر پینا، شلوار میں ازار بند ڈالنا، بستر سے اٹھتے وقت بستر کی درستگی اور کھانا کھا چکنے کے بعد کھانے کے برتن اٹھانا وغیرہ۔ مزید معلومات کے لیے دیکھیں ، فطرتی و نفسیاتی باتیں، مطبوعہ نور محمد کراچی۔