578 – "تقع النطفة في الرحم أربعين ثم يتصور عليها الذي يخلقها فيقول يا رب ذكر أم أنثى فيجعلها ذكرا أو أنثى فيقول يا رب أسوي أم غير سوي فيجعله الله سويا أو غير سوي فيقول يا رب أشقي أم سعيد فيجعله الله شقيا أو سعيدا". (طب عن حذيفة بن أسيد) .
٥٧٨۔۔ مادر رحم میں جب نطفہ چالیس راتیں گزرجاتی ہیں تو ایک فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے اور بارگاہ الٰہی سے پوچھتا ہے اے پروردگار یہ جان مذکر ہے یامونث ؟ پھر اللہ تعالیٰ مشیت کے مطابق اس کو مذکر یامونث کردیتے ہیں ، فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار اس کو درست اور صحیح سالم پیدا کرنا ہے یا کچھ تبدیلی کرنی ہے ؟ پروردگار اس کے متعلق بھی فیصلہ فرما دیتے ہیں فرشتہ دوبارہ عرض کرتا ہے پروردگار اس کو شقی لکھوں یاسعید ؟ پھر پروردگار عزوجل اپنی مشیت کے مطابق اس کو نیک بخت یا بدبخت پیدا فرما دیتے ہیں۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت حذیفہ بن اسید۔