5840- غريبتان: كلمة حكمة من سفيه فاقبلوها، وكلمة سفه من حكيم فاغفروها، فإنه لا حليم إلا ذو عثرة، ولا حكيم إلا ذو تجربة. "الديلمي عن علي".
٥٨٤٠۔۔۔ وہ انوھ کی باتیں ہیں : بیوقوف (کے منہ) سے حکمت کی بات (سن کر) قبول کرلو اور سمجھدار سے بےوقوفی کی بات (سن کر) معاف کردو، اس واسطے کہ لغزشوں والا ہی بردبار ہوتا ہے اور تجربے والا ہی حکیم ہوتا ہے۔ (الدیلمی عن علی)
تشریح :۔۔۔ انسانی ذہن ایک رے ڈار کی مانند ہے جب وہ خالی اور بیدار ہوتا ہے تو فضائے وسیع میں پھرنے والی بیشمار باتوں میں سے کوئی ایک بات اچک لیتا ہے اگر حکمت کی بات بیوقوف کے ذہن میں آجائے تو اوپری لگتی ہے، لیکن حکمت کی بات مومن کی میراث ہے جہاں جس سے ملے قبول کرلے اور معیار و کسوٹی اس کے لیے قرآن و حدیث اقوال صحابہ اور پر حکمت ذہانت ہے اسی طرح سمجھدار شخص کے ذہن میں کسی وقت کوئی بےوقوفی کی بات آجاتی ہے، جو سننے والوں کو عجیب لگتی ہے کہ حضرت کیا فرما رہے ہیں ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ ہوشیار ہو کبھی شیطان حکیم و سمجھدار شخص کی زبان بولتا ہے۔