589 – " لا عليكم أن تعجبوا بأحد حتى تنظروا بما يختم له فإن العامل يعمل زمانا من عمره أو برهة من دهره بعمل صالح لو مات عليه دخل الجنة ثم يتحول فيعمل عملا سيئا وإن العبد ليعمل البرهة
بعمل سيء لو مات عليه لدخل النار ثم يتحول فيعمل عملا صالحا وإذا أراد الله بعبد خيرا استعمله قبل موته قالوا يا رسول الله كيف يستعمله قال يوفقه لعمل صالح ثم يقبضه عليه". (حم وعبد بن حميد وابن أبي عاصم وابن منيع ع ض عن أنس) .
٥٨٩۔۔ تم کسی پر شک اور تعجب مت کرو، جب تک کہ اس کا خاتمہ اعمال نہ دیکھ لو۔ بسا اوقات کوئی پرہیزگار اپنی زندگی کے عرصہ دراز تک نیک عمل انجام دیتارہتا ہے حتی کہ اگر اسی پر خاتمہ ہوجائے توسید ھا جنت میں داخل ہو لیکن پھر اس کی زندگی نیاموڑ اختیار کرتی ہے اور وہ برے اعمال میں منہمک ہوجاتا ہے اور بعض مرتبہ کوئی بندہ عرصہ دراز تک برائیوں میں مبتلارہتا ہے حتی کہ اگر اسی پر اس کا خاتمہ ہوجائے تو سیدھا جہنم میں جاگرے مگر آخر میں اس کی زندگی کی کایاپلٹ جاتی ہے اور وہ نیک عمل میں مصروف ہوجاتا ہے اور جب اللہ کسی بندہ کا بھلا چاہتے ہیں تو اس کو موت سے قبل عمل میں مصروف فرما دیتے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا یارسول اللہ کیسے عمل میں مصروف فرما دیتے ہیں فرمایا نیک عمل کی توفیق عطا فرما دیتے ہیں اور اسی پر اس کی روح قبض کرلیتے ہیں۔ مسنداحمد، عبد بن حمید، ابن ابی عاصم، ابن منیع ، بروایت ضیاء مقدسی ، بروایت انس (رض)۔