5918- يا ابن عمر لا يغرنك ما سبق لأبويك من قبل، فإن العبد لو جاء يوم القيامة بالحسنات كأمثال الجبال الرواسي ظن أنه لا ينجو من أهوال ذلك اليوم، يا ابن عمر دينك دينك إنما هو لحمك ودمك، فانظر عمن تأخذ، خذ الدين عن الذين استقاموا، ولا تأخذ عن الذين قالو ا. "عد عن ابن عمر".
٥٩١٨۔۔۔ اے ابن عمر ! اپنے والدین کے کیے (اعمال) پر دھوکا میں نہ پڑنا، اس واسطے کہ بروز قیامت بندہ اگر مضبوط پہاڑوں جتنے بھی نیک اعمال لائے گا پھر بھی وہ یہ سوچ رہا ہوگا کہ اس دن کی ہول ناکیوں سے نہیں بچ پائے گا۔
اے ابن عمر ! اپنے دین کی حفاظت کر اپنے دین کی حفاظت کر، تمہارا تو پس گوشت و خون ہے سو دیکھو تم کس سے (علم دین) حاصل کر رہے ہو، جو لوگ دین پر کار بند اور ڈٹے ہوئے ہیں ان سے حاصل کرو، اور ان سے حاصل نہ کرو جو (زبان سے فقط) کہتے ہیں۔ (ابن عدی فی الکامل عن ابن عمر)
تشریح :۔۔۔ اس حدیث میں کئی امور ہیں، والدین اور بڑوں کی نیکیوں پر تکیہ نہ کرنا، دین کی تعلیم میں اساتذہ کا انتخاب ، ایسے لوگوں سے علم دین نہ سیکھا جائے جو صرف زبان کے عالم ہیں اور عمل کے لحاظ سے صفر ہیں، ہمارے استاد مفتی عبد الرؤف صاحب سکھروی ادام اللہ ظلہ نے کیا اچھا جملہ ارشاد فرمایا : کہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج کل جونہی علم کا درجہ بڑھتا ہے عمل کا درجہ گھٹتا جاتا ہے جو جتنا بڑا عالم ہوگا اتنا ہی عمل کے میدان میں کمزور ہوگا، اس دنیا میں گنے چنے چند افراد ہیں جن کا قول ان کے فعل کا متضاد و مخالف نہیں مولانا علی میاں ندوی نے طلباء دیوبند کو چنا نصائح فرمائے تھے جو ” پاجا سراغ زندگی “ کے نام سے چھپ چکے ہیں ان میں فرماتے ہیں : اپنے زندہ یا مردہ اکابر میں سے کسی ایک ہستی کو اپنا رہبر بنائیں اور اس کی زندگی کے مطابق اپنی زندگی ڈھال لیں۔