604 – "فيما قد فرغ منه يا ابن الخطاب وكل ميسر أما من كان من أهل السعادة فإنه يعمل السعادة، وأما من كان من أهل االشقاوة فإنه يعمل للشقاوة". (حم ت حسن صحيح عن ابن عمر) قال قال عمر "يا رسول الله أرأيت مايعمل فيه أمر مبتدأ أو فيما قد فرغ منه". قال فذكره.
٦٠٥۔۔ اے ابن خطاب ! تمام چیزوں کے فیصلوں سے فراغت ہوچکی ہے اور ہر ایک اسی کے موافق عمل میں مصروف ہے سعادت مند سعادت کے عمل انجام دے رہا ہے اور اہل شقاوت شقاوت کا عمل انجام دے رہا ہے۔ مسنداحمد، ترمذی، بروایت ابن عمر (رض)۔
پس منظر۔۔۔ حضرت عمر (رض) نے بارگاہ رسالت میں سوال کیا تھا کہ بندہ جو عمل سرانجام دیتا ہے وہ از سرنو معاملہ ہوتا ہے یا پہلے سے اس کے بارے میں خدا کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ہے ؟ تب آپ نے مذکورہ جواب مرحمت فرمایا۔ اس حدیث پر امام ترمذی (رح) نے حسن اور صحیح کا حکم جاری فرمایا ہے۔