619 – "مه مه، اتقوا الله يا أمة محمد، واديان عميقان، قعران مظلمان، لا تهيجوا عليكم وهج النار، بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من الرحمن الرحيم بأسماء أهل الجنة وآبائهم وأمهاتهم وعشائرهم، فرغ ربكم فرغ ربكم، بسم الله الرحمن الرحيم هذا كتاب من الرحمن الرحيم بأسماء أهل النار وآبائهم وأمهاتهم وعشائرهم فرغ ربكم فرغ ربكم فرغ ربكم، أعذرت أنذرت اللهم إني بلغت". (طب عن أبي الدرداء وواثلة وأبي أمامة وأنس) ، قالوا "خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ونحن نتذاكر القدر" قال فذكره.
٦٢٠۔۔ ٹھہرو، ٹھہرو۔ اے امت محمدیہ یہ دوگہری وادیاں ہیں دوتاریک گڑھے ہیں جوش و اضطراب سے جہنم میں نہ گرو۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم، سنویہ رحمن ورحیم کی کتاب ہے اس میں اہل جنت اور ان کے آبا اور اجداد اور امہات اور ان کے قبائل وغیرہ کے نام ہیں تمہارا رب بندوں کے فیصلہ جات سے فارغ ہوچکا ہے اور تمہارا رب فارغ ہوچکا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سنویہ رحمن ورحیم کی کتاب ہے اس میں اہل جہنم اور ان کے آباء و اجداد اور امہات اور ان کے قبائل وغیرہ کے نام ہیں تمہارا پروردگار فارغ ہوچکا ہے، تمہارا پروردگار فارغ ہوچکا ہے، تمہارا پروردگار فارغ ہوچکا ہے، میں حجت قائم کرچکا، میں تمہیں ڈراچکا۔ اے اللہ میں تیرا پیغام رسالت پہنچاچکا۔ الطبرانی فی الکبیر، بروایت ابی الدرداء ، وواثلہ ، وابی امامہ ، وانس۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم فرماتے ہیں رسول اللہ ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ ہم تقدیر کے متعلق بحث وتمحیص میں مصروف تھے یہ دیکھ کر آپ نے مذکورہ خطاب فرمایا۔