6341- نعمت الدار الدنيا لمن تزود منها لآخرته حتى يرضي ربه وبئست الدار الدنيا لمن صدته عن آخرته، وقصرت به عن رضا ربه وإذا قال العبد: قبح الله الدنيا، قالت الدنيا: قبح الله أعصانا لربه. "ك وتعقب وابن لال والرامهرمزي في الأمثال عن طارق بن أشيم"
٦٣٤١۔۔۔ دنیا اس شخص کے لیے بہترین گھر ہے جو اس میں سے اپنی آخرت کا توشہ حاصل کرے یہاں تک کہ اپنے رب کو راضی کرلے، اور اس شخص کے لیے دنیا برا گھر ہے جسے یہ آخرت سے روک دے، اور اپنے رب کے راضی کرنے میں کوتاہی کرائے، اور جب بندہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ دنیا کا برا کرے، تو دنیا کہتی ہے ہم میں سے جو اپنے رب کا زیادہ نافرمان ہے اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ (حاکم و تعقب وابن لال والرامھرمزی فی الامثال عن طارق بن اثیم)
تشریح :۔۔۔ اس واسطے دوسروں پر لعن طعن کرنے سے روکا گیا ہے اکثر انسان کو اپنے عیوب نظر نہیں آتے اور وہ دوسروں کو نشانہ بناتا ہے۔