6349- أما إني لا أحرمه، ولكني أتركه تواضعا لله، فإن من تواضع لله رفعه الله، ومن اقتصد أغناه الله، ومن بذر أفقره الله. "الحكيم عن محمد بن علي" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتاه أوس بن خولي بقدح فيه لبن وعسل فوضعه وقال فذكره.
٦٣٤٩۔ جہاں تک میرا معاملہ میں ہے تو میں اسے حرام قرار نہیں دیتا، البتہ میں اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی و تواضع کی خاطر ترک کرتا ہوں، اس واسطے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع کی اللہ تعالیٰ اسے بلند کرے گا اور جو (اخراجات میں) میانہ روی اختیار کرے گا اللہ تعالیٰ اسے مالدار کر دے گا اور جو فضول خرچی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے محتاج بنا دے گا (الحکیم محمد بن علی)
کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اوس بن خولی ایک پیالہ لے کر حاضر ہوئے جس میں دودھ اور شہد تھا انھوں نے وہ پیالہ رکھا اور کہا اور یہ بات ذکر کی۔
تشریح :۔۔۔ یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اتنا بہترین اور بڑھیا قوام محض تواضع کی بنا پر تناول نہیں فرمایا، اور اس نتیجہ سے ڈرایا جو بےجا اشیاء میں پیسہ اڑانے سے نکلتا ہے۔