635- "إن الله عز وجل لم يبعث نبيا قبلي إلا كان في أمته من بعده مرجئة وقدرية يشوشون عليه أمر أمته من بعده ألا إن الله عز وجل لعن المرجئة والقدرية على لسان سبعين نبيا ألا وإن أمتي هذه لأمة مرحومة لا عذاب عليها في الآخرة وإنما عذابها في الدنيا إلا صنفين من أمتي لا يدخلون الجنة المرجئة والقدرية". (ابن عساكر عن معاذ) .
٦٣٦۔۔ اللہ نے مجھ سے قبل جتنے پیغمبروں کو بھی مبعوث فرمایا ہر ایک کے بعد اس کی امت میں مرجیہ اور قدریہ ضرور پیدا ہوئے جوان کے بعد ان کی امتوں کو غلط راستے پر ڈالتے رہے آگاہ رہو اللہ نے مرجیہ اور قدریہ پر سترانبیاء کی زبانوں سے لعنت فرمائی ہے۔ خبردار۔ میری یہ امت امت مرحومہ ہے اس پر آخرت میں عذاب نہ ہوگا، اور اس کا عذاب تو دنیا میں ہی ہے۔ سوائے میری امت کے دو گروہوں کے جو جنت میں قطعا داخل نہ ہوں گی مرجیہ اور قدریہ۔ ابن عساکر۔ بروایت معاز۔
آپ کا ارشاد کہ اس امت پر آخرت میں عذاب نہ ہوگا، اس کا عذاب تو دنیا ہی میں ہے اس کا مقصد ہے کہ آخرت میں ان کو دائمی عذاب نہ ہوگا جو گناہ گار ہیں وہ بالاخر جنت میں ضرور داخل ہوجائیں گے سوائے مرجیہ اروقدریہ کے۔ کہ وہ تقدیر کے انکار کی بنا پر کفر کے مرتکب ہوں گے اور پھر کفر کی وجہ سے دائمی عذاب کی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔