6361- مالي وللدنيا؟ وما للدنيا وما لي؟ والذي نفسي بيده ما مثلي ومثل الدنيا إلا كراكب سار في يوم صائف، فاستظل تحت شجرة ساعة من نهار، ثم راح وتركها. "حم طب حب ك هب عن ابن عباس" قال: دخل عمر على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على حصير قد أثر في جنبه، فقال: يا رسول الله لو اتخذت فراشا أوثر من هذا، قال: فذكره.
٦٣٦١۔۔۔ میرا اور دنیا کا کیا واسطہ ؟ میرا اور دنیا کا کیا تعلق ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری اور اس دنیا کی مثال اس سوار جیسی ہے جو سخت گرمی کے دن چل رہا ہو اور دن کی ایک گھڑی کے لیے کسی درخت تلے سایہ حاصل کرنے کے لیے بیٹھ جائے اور پھر اسے چھوڑ کر چل دے۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر، ابن حبان حاکم ، بیہقی فی شعب الایمان عن ابن عباس (رض))
فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ ایک چٹائی پر محواستراحت تھے جسکے نشان آپ کے پہلو پر پڑگئے تھے۔ حضرت عمر نے عرض کی : کاش آپ اس سے بہتر بستر بنا لیتے، آپ نے یوں فرمایا ، اور یہ بات ذکر کی۔
تشریح :۔۔۔ واقعہ یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دفعہ تمام ازواج سے ناراض ہو کر ایک بالاخانہ میں تشریف رکھتے تھے، حضرت بلال دربان تھے وہاں آپ کھجور سے بنی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ، جس کے نشان بدن مبارک پر پڑگئے تھے۔