6441- إن عبدا من عباد الله قال: يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك، فأعضلت بالملكين، فلم يدريا كيف يكتبانها؟ فصعدا إلى السماء، فقالا: يا ربنا إن عبدك قد قال مقالة لا ندري كيف نكتبها؟ فقال الله عز وجل وهو أعلم بما قاله عبده: ماذا قال عبدي؟ قالا: يا رب إنه قد قال: يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك، فقال الله لهما: اكتباها كما قال عبدي حتى يلقاني عبدي فأجزيه بها. "هـ عن ابن عمر".
٦٤٤١۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے کسی بندے نے کہا : اے میرے رب تیری ایسی تعریف ہو جیسی تیرے چہرے کے جلال اور تیرے بڑے دبدبے کے مناسب ہے، تو یہ کلمہ دو فرشتوں کے لیے گراں ہوا، وہ یہ نہ جان سکے کہ اسے کیسے لکھیں ؟ آسمان کی طرف بلند ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کرنے لگے : اے ہمارے رب ! آپ کے ایک بندے نے ایسی بات کہی جس کے متعلق ہمیں پتہ نہ چلا کہ ہم کیسے لکھیں ؟ اللہ تعالیٰ باوجود جاننے کے کہ اس کے بندے نے کیا کلمہ کہا ہے فرماتے ہیں : میرے بندے نے کیا کہا ہے ؟ وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں اس نے کہا ہے : اے میرے رب تیری ایسی تعریف ہو جیسی تیری ذات کے جلال اور تیری بڑی سلطنت کے مناسب ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں سے فرماتا ہے : اس کلمہ کو ایسا ہی لکھنا جیسا میرے بندے نے کہا ہے یہاں تک کہ وہ مجھ سے ملے تو میں اسے اس کا بدلہ دوں گا۔ (ابن ماجہ عن ابن عمر)
تشریح :۔۔۔ چہرے کے جلال سے مراد ذات باری تعالیٰ یا مطلق قدرت، کیونکہ ہاتھ، چہرہ وغیرہ ذات باری تعالیٰ کے لیے متشابہات میں سے ہے۔