6686- إن المؤمن إذ أصابه السقم ثم أعفاه الله منه كان كفارة لما مضى من ذنوبه، وموعظة له فيما يستقبل، وإن المنافق إذا مرض ثم أعفي كان كالبعير عقله أهله، ثم أرسلوه، فلم يدر لم عقلوه، ولم يدر لم أرسلوه. "د عن عامر الرام".
٦٦٨٦۔۔۔ بندہ مومن (جو جب بخار ہوتا ہے اور) وہ بیمار ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ اسے اس بیماری سے عافیت بخشتے ہیں تو یہ بیماری اس کے پہلے گناہوں کے لیے کفارہ بن جاتی ہے، اور مستقبل کے لیے نصیحت ہوجاتی ہے اور منافق جب بیمار پڑتا ہے اور پھر اسے عافیت مل جاتی ہے تو وہ اس اونٹ کی طرح ہے جسے اس کے گھر والوں نے باندھا اور پھر کھول دیا اسے یہ بھی پتہ نہیں کہ کیوں باندھا اور نہ اس بات کا علم ہے کہ کیوں کھولا۔ (ابو داؤد عن امر الرام)
تشریح :۔۔۔ مومن کا عنداللہ بڑا رتبہ ہے کاش مومن اپنی قدر جانتا تو اس طرح واویلا نہ کرتا۔