6720- أيكم يحب أن يصح فلا يسقم؟ قالوا: كلنا يا رسول الله قال: أتحبون أن تكونوا كالحمير الصيالة؟ ألا تحبون أن تكونوا أصحاب بلاء، وأصحاب كفارات؟ والذي نفسي بيده إن الله ليبتلي المؤمن بالبلاء، وما يبتليه به إلا لكرامته عليه، وفي لفظ: إن العبد لتكون له الدرجة في الجنة فما يبلغها بشيء من عمله، فيبتليه الله بالبلاء ليبلغ تلك الدرجة، وما يبلغها بشيء من عمله. "طب والبغوي وأبو نعيم هب عن أبي فاطمة الضمري".
٦٧٢٠۔۔۔ تم میں سے کون یہ چاہتا ہے کہ وہ صحتمند رہے اور بیمار نہ پڑے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم سب یہ چاہتے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا تم یہ چاہتے ہو کہ حملہ آور گدھوں جیسے بن جاؤ ؟ کیا تم مصیبت آزمائش اور کفارات والے لوگ نہیں بننا چاہتے ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بیشک اللہ تعالیٰ مومن کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے اور مبتلا کرتا ہے اور مبتلا بھی اس کی اپنے ہاں عزت و کرامت کی وجہ سے کرتا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے (مؤمن) بندے کا جنت میں ایک درجہ ہوتا ہے جسے وہ اعمال کے ذریعہ حاصل نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اسے مصیبت میں مبتلا کردیتا ہے یوں وہ اس درجہ تک پہنچ جاتا ہے جسے وہ عمل کے ذریعہ حاصل نہ کر سک رہا تھا۔ (طبرانی فی الکبیر والبغوی وابو نعیم بیہقی فی شعب الایمان عن ابی فاطمہ الضمری)