6992- ما من ذي رحم يأتي ذا رحمه فيسأل فضلا أعطاه الله إياه فيبخل عليه إلا أخرج الله له يوم القيامة من جهنم حية، يقال لها شجاع تتلمظ فتطوق به. "طب طس عن جرير بن جرير عن رجل".
٦٩٩٢۔۔۔ جو رشہ دار کسی رشتہ دار کے پاس آکر مال مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ مال عطا کر دے گا اور (اگر) اس نے بخل سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جہنم سے ایک سانپ نکالیں گے جسے شجاع کہا جاتا ہے وہ زبان نکال رہا ہوگا اور پھر اس شخص سے چمٹ جائے گا۔ (طبرانی فی الکبیر، طبرانی فی الاوسط عن جریر بن جریر عن رجل)
تشریح :۔۔۔ وعید برحق ہے دوسری طرف ان لوگوں کو بھی خیال کرنا چاہیے جو صرف رشتہ داروں سے مال بٹورنے کے خیال میں رہتے ہیں عموماً ناراضگیاں اسی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ مال لے کر بھول جاتے ہیں ، جیسے مال آپ کو عزیز ہے ایسا ہی اس شخص کو بھی عزیز ہے جس سے آپ نے لیا ہے۔