6999- من عشق فعف ثم مات، مات شهيدا. "خط عن عائشة".
٦٩٩٩۔۔۔ جس نے عشق کیا اور پاکدامن رہا پھر مرگیا تو وہ شہادت کی موت مرا۔ (خطیب عن عائشہ (رض))
تشریح :۔۔۔ ہر چیز کا اپنا محل ہوتا ہے عشق کا محل فقط وہی چیز ہے جسے فائق کائنات نے قلبی راحت و سکون کا ذریعہ بنایا ہے اور وہ فقط صنف نازل ہے، بہت سے لوگوں کو شادی سے پہلے عشق ہوتا ہے وہ عشق نہیں ہوس و شہوت کیا یک قسم ہے اصل عشق شادی کے بعد شروع ہوتا ہے، باقی رہا اس لفظ کا استعمال اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں تو جہاں تک بندہ کی رائے ہے یہ بازاری لفظ ہے اسے خدا اور رسول کے لیے استعمال کرنا بہتر نہیں خدا اور رسول سے عقیدت وارفتگی انتہائی محبت اور اس سے ملتے جلتے بیشمار الفاظ ہیں، قرآن حدیث میں لفظ عشق خدا اور رسول کے لیے استعمال نہیں ہوا۔ (دیکھیں فطرتی و نفسیاتی باتیں مطبوعہ نور محمد کراچی)