7081- ابن آدم عندك ما يكفيك، وأنت تطلب ما يطغيك، ابن آدم لا بقليل تقنع، ولا من كثير تشبع، ابن آدم إذا أصبحت معافى في جسدك آمنا في سربك عندك قوت يومك، فعلى الدنيا العفاء. "عد هب عن ابن عمر".
٧٠٨١۔۔۔ اے انسان ! تیرے پاس وہ ہے جو تیرے لیے کافی ہے جبکہ تو ایسی چیز طلب کرتا ہے جو تجھے سرکش بنا دے، اے انسان تو تھوڑے پر قناعت نہیں کرتا، اور نہ زیادہ سے سیر ہوتا ہے، اے انسان ! جب تو اس طرح صبح کرے کہ تیرے بدن میں عافیت ہو، تیرے گھر میں امن ہو اور تیرے پاس ایک دن کا کھانا ہو تو دنیا پر مٹی یعنی تف ہے۔ (ابن عدی فی الکامل بیہقی عن ابن عمر)
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ داتا ہیں وہ خوب جانتے ہیں کس کو کتنا دینا ہے کون سرکش ہوگا اور کون فرمان بردار، سلیمان و محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دنیا کی بادشاہت دی لیکن عجز و انکساری کے پیکر تھے، فرعون و شداد کو چند حیلوں سے حکومت ملی تو لگے سرکشی کرنے