7291- الحلال بين والحرام بين، وبينهما أمور مشتبهات، لا يعلمها كثير من الناس، فمن اتقى الشبهات استبرأ لعرضه ودينه، ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام، كراع يرعى حول الحمى، يوشك أن يواقعه، ألا وإن لكل ملك حمى، وإن حمى الله تعالى في أرضه محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب. "ق " عن النعمان بن بشير.
٧٢٩١۔۔۔ حلال اور حرام (دونوں) واضح ہیں، اور ان دونوں کے درمیان کئی مشتبہ کام ہیں، جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے ، تو جس نے اپنے آپ کو شبہات سے بچایا اس نے اپنی عزت اور دین کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑا تو وہ حرام میں پڑگیا، جیسے کوئی چرواہا جو چراگاہ کے قریب (بکریاں) چرا رہا ہو، تو قریب ہی وہ انھیں اس چراگاہ میں ڈال دے گا، خبردار زمین میں اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، آگاہ رہو ! جس میں ایک ٹکڑا ہے جب وہ صحیح ہوجائے تو سارا بدن صحیح ہوجاتا ہے، اور جب وہ خراب ہوجائے تو سارا بدن خراب ہوجاتا ہے خبردار وہ دل ہے۔ (بیہقی، ترمذی، ابن ماجہ، ابوداؤد، نسائی، عن المنعمان بن بشیر)