hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 7427

.

كنز العمال

7427
Kanz al-Ummal
7427- يا معشر الذين أسلموا بألسنتهم ولم يدخل الإيمان في قلوبهم لا تؤذوا المسلمين ولا تعيروهم، ولا تتبعوا عوراتهم، فإنه من تتبع عورة أخيه المسلم تتبع الله عثرته، ومن تتبع الله عثرته يفضحه ولو في قعر بيته، قيل يا رسول الله: وهل على المؤمنين من ستر؟ قال: ستور الله على المؤمنين أكثر من أن تحصى، إن المؤمن ليعمل بالذنوب فتهتك عنه سترا سترا حتى لا يبقى عليه منه شيء، فيقول الله للملائكة: استروا على عبدي من الناس، فإنهم يعيرون ولا يغيرون، فتحف عليه الملائكة بأجنحتها يسترونه من الناس، فإن تاب قبل الله منه، ورد عليه ستوره ومع كل ستر تسعة أستار، فإن تتابع في الذنوب قالت الملائكة: يا ربنا إنه قد غلبنا وأقذرنا فيقول للملائكة: تخلوا عنه، فلو عمل ذنبا في بيت مظلم في ليلة مظلمة في حجر أبدى الله عنه، وعن عورته. الحكيم عن جبير بن نفير مرسلا.
٧٤٢٧۔۔۔ اے وہ لوگو ! جو زبان سے ایمان لائے ہیں اور ایمان ابھی تک ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا، مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچانا، اور نہ انھیں عار دلا کرنا، نہ ان کے عیوب تلاش کرنا، اس واسطے کہ جو اپنے مسلمان بھائی کا عیب تلاش کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی لغزش کو ظاہر کر دے گا، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ یہ معاملہ کرے تو اسے رسوا کر دے گا، اگرچہ وہ اپنے گھر ہی کیوں نہ ہو کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا مسلمانوں پر کوئی پردہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کے پردے شمار سے زیادہ ہیں، مومن بندہ گناہ کرکے ان پر دوں کو پھاڑ دیتا ہے یہاں تک کہ ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہتا، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں : میرے بندے کو لوگوں سے چھپا دو ، کیونکہ وہ اسے عار دلاتے ہیں اسے برائی سے روکتے ہیں، تو فرشتے اسے اپنے پردوں میں ڈھانپ کر لوگوں سے چھپالیتے ہیں، پھر اگر وہ توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے ہیں، اور اس پر اس کے پردے واپس ڈال دیتے ہیں اور ہر پردے کے ساتھ نو پردوں کا اضافہ ہوجاتا ہے، اور اگر گناہوں میں آگے بڑھتا رہے تو فرشتے کہتے ہیں : اے پروردگار وہ ہم پر غالب آگیا اور ہمیں حقیر جانا، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتے ہیں : اس سے ہٹ جاؤ، پھر اگر وہ تاریک رات میں تاریک گھر میں کسی بل کے اندر بھی کوئی گناہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کردیتے ہیں، اور اس کا عیب لوگوں کے سامنے کردیتے ہیں۔ (الحکیم عن جبیر بن نفیر ، مرسلاً )