7516- إن أول الناس يدخل النار يوم القيامة ثلاثة نفر: يؤتى بالرجل فيقول: رب علمتني الكتاب فقرأته آناء الليل والنهار رجاء ثوابك فيقال: كذبت، إنما كنت تصلي ليقال: إنك قارئ مصل، وقد قيل اذهبوا به إلى النار، ثم يؤتى بآخر، فيقول: رب رزقتني مالا فوصلت به الرحم، وتصدقت به على المساكين، وحملت به ابن السبيل رجاء ثوابك وجنتك، فيقال: كذبت إنما كنت تتصدق وتصلي ليقال: إنه سمح جواد، وقيل، اذهبوا به إلى النار، ثم يجاء بالثالث فيقول: رب خرجت في سبيلك، فقاتلت فيك حتى قتلت مقبلا غير مدبر، رجاء ثوابك وجنتك، فيقال: كذبت إنما كنت تقاتل ليقال: إنك جريء شجاع وقد قيل، اذهبوا به إلى النار. "ك" عن أبي هريرة.
٧٥١٦۔۔۔ قیامت کے روز تین آدمی سب سے پہلے جہنم میں داخل ہوں گے، ایک شخص کو لایا جائے گا ، تو وہ کہے گا ، پروردگار آپ نے مجھے کتاب کی تعلیم دی پھر میں نے اسے رات اور دن کی گھڑیوں میں پڑھا، آپ سے ثواب کی امید رکھتے ہوئے ، تو اسے کہا جائے گا : جھوٹ بولتے ہو، تو تو اس لیے نماز پڑھتا تھا کہ جائے تو قاری اور نمازی ہے سو وہ تو کہا جاچکا۔
پھر دوسرے کو لایا جائے گا، وہ کہے گا : پروردگار آپ نے مجھے مال دیا جس سے میں سے میں صلہ رحمی کی، اور مساکین پر صدقہ کیا، اور آپ کے ثواب اور جنت کی امید سے مسافرون کو سواریاں دیں ، (اس سے) کہا جائے گا : تو نے جھوٹ بولا ، تو اس واسطے صدقہ کرتا اور نماز پڑھتا تھا کہ یہ کہا جائے : وہ سخی اور فیاض ہے، کہا جائے گا : اسے جہنم کی طرف لے جاؤ ! پھر تیسرے شخص کو لایا جائے گا، وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں آپ کے راستہ میں نکلا، اور آپ کی خاطر قتال کرتا رہا ہوں یہاں تک کہ بغیر پیٹھ پھیرے قتل کردیا گیا (اور یہ کام) آپ کی جنت اور ثواب کی امید سے کیے، اس سے کہا جائے تم جھوٹ بولتے ہو، تو تو اس لیے قتال کرتا رہا تاکہ یہ کہا جائے کہ تو جری اور بہادر ہے، سو یہ تو کہا جاچکا، اسے جہنم کی طرف لے چلو۔ (حاکم عن ابوہریرہ (رض))