hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 7571

.

كنز العمال

7571
Kanz al-Ummal
7571- ألا تعجبون من أسامة المشتري إلى شهر؟ إن أسامة لطويل الأمل، والذي نفسي بيده ما طرفت عيناي إلا ظننت أن شفري لا يلتقيان حتى يقبض الله روحي، ولا رفعت طرفي وظننت أني واضعه حتى أقبض، ولا لقمت لقمة إلا ظننت أني لا أسيغها، حتى أغص بها من الموت، يا بني آدم إن كنتم تعقلون فعدوا أنفسكم في الموتى، والذي نفسي بيده: إنما توعدون لآت، وما أنتم بمعجزين. "حل" وابن عساكر عن أبي سعيد.
٧٥٧١۔۔۔ کیا تم اسامہ پر تعجب نہیں کرتے جو مہینہ تک کی خریدو فروخت کا معاملہ کرنے والا ہے، بیشک اسامہ بڑی لمبی امید کرنے والا ہے، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! مجھے تو یہی گمان ہے کہ میری آنکھ کی پلک جھپکنے نہ پائے گی کہ اللہ تعالیٰ میری روح قبض کرلے گا، اور نہ مجھے یہ گمان ہے کہ میں اپنی پلکیں کھولوں اور بند کرنے سے پہلے روح قبض کرلی جائے اور جب کوئی لقمہ منہ میں رکھتا ہوں تو مجھے اسے چبا کر نگلنے کی امید نہیں ہوتی یہاں تک کہ اسے موت کے ساتھ خاص کرلوں ، اے انسانو ! اگر تم عقل رکھتے ہو تو اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس کا تم سے وعدہ ہے وہ آنے والا ہے وہ آنے والا ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں۔ (الحلیۃ وابن عساکر عن ابی سعید)
تشریح :۔۔۔ اگر کوئی ایسا معاملہ کرنا بھی ہو تو ان شاء اللہ کہہ دینا چاہیے، مقصودیہ ہے کہ زندگی کی بےثباتی دل میں مستحضرہو۔