hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 7768

.

كنز العمال

7768
Kanz al-Ummal
7768- ما على الأرض من رجل يموت وفي قلبه من الكبر مثقال حبة من خردل إلا جعله الله في النار، فقال رجل: يا رسول الله إني أحب أن أتجمل بحمالة1 سيفي، وبغسل ثيابي من الدرن، وبحسن الشراك والنعلين، فقال: ليس ذاك أعني، الكبر من سفه الحق وغمص الناس، قيل يا رسول الله: ما سفه الحق وغمص الناس؟ قال: هو الذي يجيء شامخا بأنفه، فإذا رأى ضعفاء الناس وفقراءهم، لم يسلم عليهم، محقرة لهم، فذاك الذي يغمص الناس، من رقع الثوب، وخصف النعل، وركب الحمار، وعاد المملوك إذا مرض، وحلب الشاة، فقد برئ من العظمة. ابن صصرى في أماليه عن ابن عباس.
٧٧٦٨۔۔۔ روئے زمین پر جو شخص ایسا ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہو اور وہ مرجائے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل فرمائیں گے، ایک شخص نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں چاہتا ہوں کہ میری تلوار کا دستہ خوبصورت ہو، اور میرے کپڑے میل کچیل سے دھونے کے ذریعہ صاف ہوں تسمے اور جوتے خوبصورت ہوں ، آپ نے فرمایا : میری مراد یہ نہیں
تکبر یہ ہے کہ کوئی حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو گھٹیا سمجھے کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو کمتر سمجھنا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو اپنی ناک چڑھائے آئے، جب کمزور اور فقیر لوگوں کو دیکھے تو حقارت کی وجہ سے انھیں سلام نہ کرے، یہ شخص لوگوں کو گھٹیا سمجھتا ہے۔
جس نے کپڑے پر پیوند لگایا، جوتا گانٹھ کیا، گدھے پر سوار ہوا، اور غلام جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرلی، بکری کا دودھ دوہ لیا تو وہ تکبر سگت چھوٹ گیا ۔ (ابن صصری فی امالیہ عن ابن عباس)
تشریح :۔۔۔ موجود دور میں گدھے کی بجائے سائیکل کی سواری اور غلام سے مراد گھر میں کام کرنے والے خادم اور بکری کا دودھ دوہنے سے مراد بازار سے دودھ لانا ہے۔