7818- ألا إن أولياء الله المصلون، ومن يقيم الصلوات الخمس التي كتبهن الله على عباده، ويصوم رمضان، ويحتسب صومه، حتى يرى أنه عليه حق، ويؤتي زكاة ماله طيبة بها نفسه يحتسبها، ويجتنب الكبائر التي نهى الله عنها، قيل يا رسول الله: كم الكبائر؟ قال هي تسع: أعظمهن الإشراك بالله، وقتل المؤمن بغير حق، والفرار من الزحف، وقذف المحصنة والسحر، وأكل مال اليتيم، وأكل الربا، وعقوق الوالدين المسلمين، واستحلال البيت الحرام قبلتكم أحياء وأمواتا، لا يموت رجل لم يعمل هؤلاء الكبائر، ويقيم الصلاة ويؤتي الزكاة إلا رافق محمدا صلى الله عليه وسلم في بحبوحة جنة أبوابها مضاريع الذهب.
"طب هق ك" عن عبيد بن عمير الليثي عن أبيه.
٧٨١٨۔۔۔ خبردار ! اللہ والے نمازی ہوتے ہیں، جس نے یہ پانچ نمازیں ادا کیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں ، رمضان کے روزے رکھتا ہو، اور اپنے روزے پر ثواب کی امید رکھتا ہو، اور ان کبیرہ گناہوں سے بچتا ہو جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے، کسی نے عرض کیا یارسول اللہ ! کبیرہ گناہ (کون سے ہیں) کتنے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : وہ نو ہیں سب سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، ناحق کسی مسلمان کو قتل کرنا ، جنگ سے بھاگنا ، پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا، جادو کرنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، مسلمان والدین کی نافرمانی کرنا، بیت کا حرام (میں اس کی چیزوں) کو حلال سمجھنا جو تمہارے زندوں اور مردوں کا قبلہ ہے، جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ ان میں سے کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ ہوا، نماز قائم کرتا ہو، زکوۃ ادا کرتا ہو تو وہ جنت کے وسط میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رفیق ہوگا، جس کے دروازے سونے کی طرح ہوں گے۔ (طبرانی فی الکبیر ، بیھقی فی شعب الایمان ، حاکم عن عبید بن عمیر اللیشی عن ابیہ)