7898- قال سليمان بن داود: لأطوفن الليلة على مائة امرأة، كلهن تأتي بفارس يجاهد في سبيل الله، فقال صاحبه: قل إن شاء الله، فلم يقل إن شاء الله، فطاف عليهن، فلم تحمل منهن إلا امرأة واحدة جاءت بشق إنسان، والذي نفس محمد بيده، لو قال: إن شاء الله لم يحنث، وكان دركا لحاجته. "حم ق ن" عن أبي هريرة. مر برقم [5469].
٧٨٩٨۔۔۔ سلیمان بن داؤد (علیہا السلام) نے فرمایا : آج رات میں سو عورتوں کے پاس جاؤں گا، ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والا کرے گی، تو ان کے وزیرنے ان سے کہا : ان شاء اللہ کہہ لیجئے، اور آپ نے (کسی کام میں مشغولی کی وجہ سے ) ان شاء اللہ نہیں کہا ، چنانچہ ان سے ہمبستر ہوئے تو ان میں سے صرف ایک عورت کے حمل ہوا، وہ بھی آدھا انسان ، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر وہ ان شاء اللہ کہہ لیتے تو وہ حانث نہ ہوتے ان کی قسم پوری ہوجاتی، اور یہ ان کی حاجت برآری کا باعث بن جاتا۔ مسند احمد، بیھقی، نسائی عن ابوہریرہ مربرقم، ٥٤٦٩