7907- ألا أحدثكم حديث رجلين من بني إسرائيل؟ كان أحدهما يسرف على نفسه، وكان الآخر يراه بنو إسرائيل أنه أفضلهم في الدين والعلم والخلق، فذكر عنده صاحبه، فقال: لن يغفر الله له، فقال الله لملائكته: ألم يعلم أني أرحم الراحمين؟ ألم يعلم أن رحمتي سبقت غضبي؟ فإني أوجبت لهذا الرحمة، وأوجبت على هذا العذاب، فلا تتألوا على الله. "حل" وابن عساكر عن أبي قتادة.
٧٩٠٧۔۔۔ کیا تمہیں نبی اسرائیل کے دو آدمیوں کی بات نہ سناؤں ؟ ان میں سے ایک اپنے آپ پر زیادتی کرتا تھا اور دوسرا ایسا تھا کہ بنی اسرائیل اسے دین علم اور اخلاق میں سب سے افضل سمجھتے تھے، اس کے سامنے اس شخص کا ذکر کیا گیا ، تو وہ کہنے لگا اللہ تعالیٰ ہرگز اس کی بخشش نہیں فرمائے گا۔
تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرمایا : کیا اسے معلوم نہیں کہ میں سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہوں ؟ تو (سن لو ! ) میں اس (گنہگار) کے لیے رحمت واجب کردی اور اس (نیک) کے لیے عذاب واجب کردیا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی (ایسی ) قسم نہ کھایا کرو۔ (الحلیۃ وابن عساکر ابی قتادۃ)