hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 815

.

كنز العمال

815
Kanz al-Ummal
815 – "خيار أمتي فيما أنبأني الملأ الأعلى قوم يضحكون جهرا في سعة رحمة ربهم ويبكون سرا من خوف عذاب ربهم يذكرون ربهم بالغداة والعشي في البيوت الطيبة المساجد ويدعونه بألسنتهم رغبا ورهبا ويسألونه بأيديهم خفضا ورفعا ويقبلون بقلوبهم عودا وبدأ فمؤنتهم على الناس خفيفة وعلى أنفسهم ثقيلة يدبون في الأرض حفاة على أقدامهم كدبيب النمل بلا مدح ولا بذح يمشون بالسكينة ويتقربون بالوسيلة يقرؤون القرآن ويقربون القربان ويلبسون الخلقان عليهم من الله شهود حاضرة وعين حافظة يتوسمون العباد ويتفكرون في البلاد أرواحهم في الدنيا وقلوبهم في الآخرة ليس لهم هم إلا إمامهم أعدوا الجهاز لقبورهم والجواز لسبيلهم والاستعداد لمقامهم ثم تلا: {ذَلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِي وَخَافَ وَعِيدِ} ". (حل ك وتعقب هب وضعفه ابن النجار عن عياض بن سليمان) وكانت له صحبة قال الذهبي هذا حديث عجيب منكر وعياض لا يدري من هو ابن النجار ذكره أبو موسى المديني في الصحابة.
٨١٥۔۔ میری امت کے بہترین لوگ جن کی مجھے ملااعلی نے خبردی وہ لوگ ہیں جو ظاہراتو اپنے رب کی رحمت کی وجہ سے ہنستے ہیں لیکن درون دل اپنے رب کے عذاب کی وجہ سے گریہ وزاری کرتے ہیں خدا کے پاکیزہ گھروں یعنی مساجد میں صبح وشام اللہ کو یاد کرتے ہیں اپنی زبانوں سے اللہ کو امید وہم کی حالت میں پکارتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں کو پست وبلند کرتے ہوئے اس سے بھیک مانگتے ہیں دل کی گہرائیوں کے ساتھ اس کو بار بار یاد کرتے ہیں، آہ ، لوگوں پر ان کا بوجھ انتہائی خفیف ہے لیکن اپنی ذات کو انھوں نے گراں بار کررکھا ہے چیونٹی کی مانند اللہ کی دھرتی پر عاجزی کے ساتھ قد چلتے ہیں نہ مدح سرائی سے ان کو کوئی سروکار بمطابق منتخب، نہ اتراہٹ و برائی جتاتے ہیں وقار وسکینت کے ساتھ قدم اٹھاتے ہیں خدا سے فریاد کے وقت وسیلہ کا سہارا لیتے ہیں تلاوت قرآن ان کا مشغلہ ہے راہ خدا میں قربانیوں سے تقرب حاصل کرتے ہیں موٹا چھوٹا جو میسر ہوخوشی سے زیب تن کرلیتے ہیں، آہ ! ایسے لوگوں کے ہی جلو میں خدا کے نگہبان فرشتے حاضر رہتے ہیں۔ یہ لوگ خدا کی عطا کردہ فراست سے بندگان خدا کے چہروں کو پڑھ لیتے ہیں دنیا میں عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کے جسم دنیا میں توقلوب آخرت میں مستغرق ہوتے ہیں انھیں کوئی فکر نہیں ۃوتی سوائے آگے کے۔ انھوں نے اپنی قبروں کو توشہ تیار کرلیا ہے اپنے راستے کا اجازت نامہ ساتھ لے لیا ہے مقام محشر میں خدا کے سامنے کھڑے ہونے کی تیاری کرلی ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ذالک لمن خاف مقامی وخاف وعید۔ یہ اس لیے کہ جو میرے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر اور میرے عذاب سے ڈرا۔ الحلیہ۔ المستدرک للحاکم۔ لیکن اس پر علامہ بیہقی نے شعب الایمان میں کلام فرمایا ہے۔ اور ابن انجار نے عیاض بن سلیمان کے طریق سے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔ علامہ ذھمی نے فرمایا یہ حدیث عجیب اور منکر ہے عیاض کے متعلق نہیں معلوم کہ وہ کون تھا ؟۔