829 – " ليس بمؤمن مستكمل الإيمان من لم يعد البلاء نعمة والرخاء مصيبة قالوا كيف يا رسول الله قال لأن البلاء لا يتبعه إلا الرخاء وكذلك الرخاء لا يتبعه إلا البلاء والمصيبة، وليس بمؤمن مستكمل الإيمان من لم يكن في غم ما لم يكن في الصلاة قالوا ولم يا رسول الله قال لأن المصلي يناجي ربه وإذا كان في غير صلاة إنما يناجي ابن آدم". (طب عن ابن عباس) .
٨٢٩۔۔ وہ شخص کامل ایمان والامومن نہیں ہے جو مصیبت کو نعمت نہ سمجھے اور نرمی و آسانی کو مصیبت نہ سمجھے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یہ کیسے ہوسکتا ہے تو فرمایا کہ ہر مصیبت کے بعد نرمی وفراخی اور ہرنرمی وفراخی کے بعد بلا و مصیبت تو آتی ہی ہے فرمایا کوئی مومن کامل الایمان نہیں ہوتا سوائے نماز کی حالت کے۔ کیونکہ اس وقت وہ مکمل سنجیدگی وغم میں مبتلا ہوتا ہے۔ عرض کیا وہ کیسے کیونکر ؟ تو فرمایا اس لیے کہ بندہ نماز میں اللہ سے مناجات کرتا ہے اور غیر نماز میں ابن آدم سے گفتگو کرتا ہے۔ الکبیر للطبرانی ، ابن عباس (رض)۔