8410- عن عمرو بن دينار قال: نزل النبي صلى الله عليه وسلم برجل ذي عكرة من الإبل، وهي ستون، أو سبعون، أو تسعون إلى المائة، بين إبل وبقر وغنم، فلم ينزله، ولم يضفه، ومر على امرأة لها شويهات فأنزلته، وذبحت له، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: انظروا إلى هذا الذي له عكر من الإبل والبقر والغنم، مررنا به فلم ينزلنا، ولم يضفنا، وانظروا إلى هذه المرأة، لها شويهات أنزلتنا، وذبحت لنا، إنما هذه الأخلاق بيد الله، فمن شاء أن يمنحه منها خلقا حسنا منحه، قال عمرو: سمعت طاووسا يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وهو على المنبر إنما يهدي إلى أحسن الأخلاق الله، وإنما يصرف إلى أسوائها هو. "هب".
٨٤١٠۔۔۔ عمروبن دینار سے روایت ہے فرمایا : کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس ٹھہرے جس کے پاس پچاس سے اوپر کچھ مویشی تھے، ساٹھ، ستریانوے سے سو تک ان میں اونٹ ، گائے اور بکریاں شامل تھیں، اس نے آپ کونہ ٹھہرایا اور نہ مہمان نوازی کی، چلتے چلتے ایک (دیہاتی عرب) عورت کے ہاں سے گزرہوا، جس کی چند بکریاں تھیں، اس نے آپ کو اپنے یاں فروکش ہونے کا کہا ؟ اور آپ کی خاطر بکری ذبح کی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کو دیکھو جس کے پاس اونٹ ، بکریاں اور گائیں تھیں، اس کے پاس سے ہم گزرے تو نہ اس نے ہمیں آنے کو کہا اور نہ ہماری ضیافت کی، اور اس کے مقابلہ میں اس عورت کو دیکھو ! اس کے پاس چندبکریاں تھیں اس نے ہمیں خوش آمدید کہا ہماری ضیافت کی، ہمارے لیے بکری ذبح کی، (ایسا اخلاق کا تفاوت ہے ؟ ) یہ اخلاق (حسنہ) اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں جسے چاہتے ہیں اسے ان میں سے اچھے اخلاق بخش دیتے ہیں، عمرو فرماتے ہیں : میں نے طاؤوس کو فرماتے سنا : کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور اس وقت آپ منبر پر تشریف فرما تھے،اچھے اخلاق اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور برے اخلاق کی جانب وہی پھیرتا ہے۔ ( بیھقی فی شعب الایمان)