8412- عن عباد بن يعقوب الرواجني: أنبأنا عيسى بن عبد الله بن محمد بن علي: ثنى أبي عن أبيه عن جده عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله يحب أن يؤخذ برخصه، كما يحب أن يؤخذ بعزائمه، إن الله بعثني بالحنيفية السمحة دين إبراهيم، ثم قرأ: {وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ} فقال لي أبي: يا بني ما حرج؟ قلت: لا أدري قال: الضيق. "ك".
٨٤١٢۔۔۔ عبادبن یعقوب لرواجنی نے کہا ہمیں عیسیٰ بن عبداللہ ابن علی بن علی نے خبردی وہ فرماتے ہیں مجھ سے میرے والد نے اپنے والد سے اپنے دادا سے انھوں نے حضرت علی (رض) سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ ان کی (عطاکردہ) رخصتوں پر عمل کیا جائے، جیسے وہ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ ان کی عزیمتوں پر عمل کیا جائے، مجھے اللہ تعالیٰ نے یکسوسیدھا آسان دین ابراہیم دے کر بھیجا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی میرے والد نے مجھ سے فرمایا : بیٹا حرج کیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے اس بارے علم نہیں انھوں نے فرمایا : تنگی۔ (حاکم)