hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8417

.

كنز العمال

8417
Kanz al-Ummal
8417- "عبد الله بن عمرو" عن عبد الله بن عمرو قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا عبد الله ألم أخبر أنك تكلفت قيام الليل وصيام النهار؟ قلت لأفعل، فقال: إن من حسبك - ولم يقل افعل- أن تصوم من كل شهر ثلاثة أيام، فالحسنة بعشر أمثالها، فكأنما قد صمت الدهر كله، قلت: يا رسول الله إني أجد قوة، وإني أحب أن تزيدني، قال: فخمسة أيام قلت: فإني أجد قوة، وإني أحب أن تزيدني، قال سبعة أيام، قال: فجعل يستزيده، ويزيده يومين، يومين، حتى بلغ النصف، فقال: إن أخي داود كان أعبد البشر، وإنه كان يقوم نصف الليل، ويصوم نصف الدهر، وإن لأهلك عليك حقا، وإن لعينك عليك حقا وإن لضيفك عليك حقا، فكان عبد الله بعد ما كبر وأدركه السن، يقول: لأن كنت قبلت رخصة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلي من أهلي ومالي. "ع كر". - خ م-.
٨٤١٧۔۔۔ (عبداللہ بن عمرو) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : عبداللہ کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی کہ تم رات کے قیام اور دن کے روزے کی تکلیف اٹھاتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں ایسا ہی کرتا ہوں آپ نے فرمایا تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ ( آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایسے کرو) ۔
ہر مہینہ تین روزے رکھ لیا کرو، کیونکہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے تو گویا تم نے پورا سال روزے رکھے، میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں اس کی قوت رکھتا ہوں ، اور میں چاہتا ہوں : کہ آپ میرے لیے اضافہ فرمائیں آپ نے فرمایا : اچھا پانچ دن ، میں نے عرض کی مجھ میں طاقت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اضافہ فرمائیں۔
آپ نے فرمایا : اچھا سات دن راوی کا بیان ہے : وہ اضافہ کا مطالبہ کرتے رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو ، دو دن کا اضافہ فرماتے رہے، یہاں تک کہ نصف (ماہ) تک پہنچ گئے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بھائی داؤد انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے، آدھی رات قیام کرتے اور آدھا سال روزہ رکھتے تھے اور تمہارے ذمہ تو تمہارے گھروالوں ، تمہاری آنکھوں کا ، تمہارے مہمان کا حق ہے، بعد میں جب عبداللہ (رض) بوڑھے اور سن رسیدہ ہوگئے تو فرمایا کرتے تھے کاش میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رخصت قبول کرلیتا تو وہ میرے لیے میری اہل ومال سے عزیز ہوتی۔ (ابویعلی ، ابن عساکر ، بخاری مسلم)