8438- عن علي رضي الله عنه قال: كنا جلوسا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فطلع علينا رجل من أهل العالية، فقال: يا رسول الله أخبرني بأشد شيء في هذا الدين وألينه، فقال: ألينه شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبده ورسوله، وأشده يا أخا العالية الأمانة، إنه لا دين لمن لا أمانة له، ولا صلاة ولا زكاة له، يا أخا العالية، إنه من أصاب مالا من حرام، فلبس جلبابا - يعني قميصا - لم تقبل صلاته حتى ينحي ذلك الجلباب عنه إن الله تعالى أكرم وأجل - يا أخا العالية - من أن يتقبل عمل رجل أو صلاته وعليه جلباب من حرام1. البزار، وفيه أبو الجنوب2 ضعيف.
٨٤٣٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ( تو مدینہ کے) بالائی حصہ کا ایک شخص آیا، اس نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے اس دین کی سب سے مضبوط اور آسان چیز کے بارے میں بتایئے ! آپ نے فرمایا : سب سے آسان لاالٰہ الا اللہ کی گواہی ہے اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں اور سب سے سخت چیز اے بالائی حصہ میں رہنے والوں کے بھائی ! امانت ہے کیونکہ جس میں امانت نہیں اس کا دین بھی نہیں، اور نہ اس کی نماز اور روزہ ہے۔
اے عوالی کے بھائی ! جس نے حرام مال حاصل کیا اور اس کی چادر یعنی قمیض پہنی ، تو اس کی نماز قبول نہیں یہاں تک کہ اپنے آپ سے اس چادر کو دور کرے، عوالی مدینہ کے رہنے والوں کے بھائی ! اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت عزت والے اور جلال والے ہیں کہ وہ کسی آدمی کا کوئی عمل یا نماز قبول کریں جبکہ اس کے بدن پر حرام مال کی قمیض ہے (البزاروفیہ ابوالجنوب ضعیف)