8480- عن أبي قلابة أن عمر حدث أن أبا محجن الثقفي يشرب الخمر في بيته، هو وأصحاب له، فانطلق عمر حتى دخل عليه فإذا ليس عنده إلا رجل، فقال أبو محجن: يا أمير المؤمنين إن هذا لا يحل لك قد نهاك الله عن التجسس، فقال عمر: ما يقال هذا؟ فقال له زيد بن ثابت وعبد الرحمن بن الأرقم صدق يا أمير المؤمنين، هذا من التجسس، فخرج عمر وتركه. "عب".
٨٤٨٠۔۔۔ ابوقلابہ سے روایت ہے کہ کسی نے حضرت عمر سے کہہ دیا : کہ ابومحجن ثقفی نے اپنے گھر میں شراب پی ہے جہاں وہ اور ان کے احباب بیٹھے ہیں ، حضرت عمر چل کر وہاں پہنچے تو ان کے پاس صرف ایک آدمی بیٹھا تھا، ابومحجن نے کہا : امیرالمومنین آپ کے لیے یہ کام جائز نہیں اللہ تعالیٰ نے تجسس سے منع فرمایا ہے تو حضرت عمر نے فرمایا : اس فعل کو کیا کہا جائے ؟ تو زید بن ثابت اور عبدالرحمن بن ارقم نے ان سے کہا : امیرالمومنین ! ابومحجن نے سچ کہا، یہ واقعی تجسس ہے چنانچہ حضرت عمر انھیں چھوڑ کر وہاں سے چل دیئے۔ (عبدالرزاق)