8495- عن كميل بن زياد قال: خرجت مع علي بن أبي طالب، فلما أشرف على الجبان التفت إلى المقبرة، فقال: يا أهل القبور، يا أهل البلى يا أهل الوحشة، ما الخبر عندكم، فإن الخبر عندنا قد قسمت الأموال، وأيتمت الأولاد، واستبدل بالأزواج، فهذا الخبر عندنا، فما الخبر عندكم ثم التفت إلي فقال: يا كميل لو أذن لهم في الجواب لقالوا: إن خير الزاد التقوى، ثم بكى، وقال لي: يا كميل القبر صندوق العمل، وعند الموت يأتيك الخبر. الدينوري "كر".
٨٤٩٥۔۔۔ کمیل بن زیاد سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں حضرت علی (رض) کے ہمراہ نکلا جب آپ جبان کے اوپر پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا : اے قبروں بوسیدگی اور وحشت والو ! تمہاری کیا خبر ہے ہماری خبر تو یہ ہے کہ مال تقسیم ہوگئے ، اولاد یتیم ہوگئی، خاوندبدل گئے یہ تو ہماری خبر تھی ، تمہاری کیا خبر ہے۔
پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے کمیل ! اگر انھیں جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے : بہترین توشہ تقویٰ ہے، پھر آپ روپڑے اور مجھ سے فرمایا : کمیل ! قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تیرے پاس (اس کی) خبر پہنچ جائے گی۔ (الدینوری، ابن عساکر)