hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8501

.

كنز العمال

8501
Kanz al-Ummal
8501- "أبو ذر رضي الله عنه" يا أبا ذر كن للعمل بالتقوى أشد اهتماما منك بالعمل، يا أبا ذر إن الله إذا أراد بعبد خيرا جعل الذنوب بين عينيه ممثلة، يا أبا ذر إن المؤمن يرى ذنبه كأنه تحت صخرة، يخاف أن تقع عليه، والكافر يرى ذنبه كأنه ذباب يمر على أنفه، يا أبا ذر لا تنظر إلى صغر الخطيئة، ولكن انظر إلى عظم من عصيت، يا أبا ذر لا يكون الرجل من المتقين حتى يحاسب نفسه أشد من محاسبة الشريك لشريكه، فيعلم من أين مطعمه، ومن أين مشربه، ومن أين ملبسه؟ أمن حل ذلك، أم من حرام؟ الديلمي.
٨٥٠١۔۔۔ حضرت (ابوذر (رض)) سے روایت ہے (کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :) اے ابوذر ! تقویٰ کے ذریعہ کی قبولیت کا عمل سے زیادہ اہتمام کرو، اے ابوذر اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کو بھلائی پہنچانا چاہتے ہیں تو برائیوں کو اس کے سامنے مشکل کردیتے ہیں ، ابوذر ! مومن اپنے لیے گناہ کو ایسے سمجھتا ہے گویا وہ کسی چٹان تلے ہے جس کے گرنے کا اسے اندیشہ ہے اور کافر اپنے لیے گناہ کو ایسے سمجھتا ہے گویا کوئی مکھی ہے جو ناک پر آبیٹھی، ابوذر ! کسی جھوٹے گناہ کو نہ دیکھو، بلکہ اس ذات کی عظمت کو دیکھو جس کے نافرمانی کررہے ہو، ابوذر ! بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا یہاں تک کہ اپنا محاسبہ اس سے زیادہ سخت ایسے کرے جیسے ایک شریک (کار) اپنے شریک کا کرتا ہے اور وہ جان لے کہ اس کے کھانے پینے اور پہننے کا سامان کہاں سے آرہا ہے ؟ حلال سے یا حرام سے ۔ (الدیلمی)