8503- عن عمرو بن مخراق قال: مر على عائشة رجل ذو هيئة وهي تأكل فدعته فقعد معها، ومر آخر فأعطته كسرة، فقيل لها؟ فقالت: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ننزل الناس منازلهم.
"خط" في المتفق. مر برقم/5717 و 5718/.
٨٥٠٣۔۔۔ عمروبن مخراق سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) کھانا کھارہی تھیں آپ کے پاس ایک شخص گزرا جو شان و شوکت والا تھا آپ نے اسے بلایا اور وہ آپ کے ساتھ بیٹھ گیا پھر ایک دوسرا شخص گزرا تو آپ نے اسے ایک روٹی کا ٹکڑا عنایت کیا ، آپ سے کسی نے کہا : ایسا کیوں ؟ آپ نے فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ لوگوں کو ان کے مراتب و درجات میں رکھیں ۔ (خطیب فی المتفق مربرقم، ٥٧١٧/٥٧١٨)
تشریح :۔۔۔ یہ حدیث جتنے راویوں نے نقل کی ہے سب کا مدار میمون بن ابی شبیب ہے مگر انھوں نے حضرت عائشہ کا زمانہ نہیں پایا، بہرکیف حدیث کا درجہ حسن کا ہے، یہاں دو باتیں دغیرہ میں بیٹھتے ہیں ، آپ کی مجلس علمی مجلس ہوا کرتی تھی، آپ پردہ میں بیٹھی تھیں ، دوم آپ کھانے کے لیے اس طرح نہیں بیٹھی تھیں جیسے لوگ ہوٹل وغیرہ میں بیٹھتے ہیں ، آپ کی مجلس علمی مجلس ہوا کرتی تھی، آپ پردہ میں بیٹھتیں اور آنے والوں کے لیے آپ کے ہاں قیام وطعام کا بند و بست تھا، کیونکہ شائقین علم حدیث دور دور سے آکر آپ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال سنتے آپ کے کئی خادم اور لونڈیاں تھیں پاس بیٹھنے سے مراد اتحاد مجلس ہے نہ کہ اتحاد مکان۔