8505- عن زياد بن أنعم قال: انضم مركبنا إلى مركب أبي أيوب الأنصاري في البحر، وكان معنا رجل مزاح، فكان يقول لصاحب طعامنا: جزاك الله خيرا وبرا فيغضب، فقلنا لأبي أيوب: إن معنا رجلا إذا قلنا له جزاك الله خيرا وبرا يغضب، فقال: اقلبوه له، فإنا كنا نتحدث أن من لم يصلحه الخير أصلحه الشر فقال له المزاح: جزاك شرا وعرا1 فضحك، وقال: ما تدع مزاحك، فقال الرجل: جزاك الله يا أبا أيوب خيرا. "كر".
٨٥٠٥۔۔۔ زیادبن الغم سے روایت ہے فرماتے ہیں : سمندر میں ہمارا بحری بیڑہ حضرت ابوایوب انصاری (رض) کے بیڑہ سے مل گیا ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جو بےحد مذاقی تھا، وہ ہمارے باورچی سے کہتا ، اللہ تعالیٰ تجھے اچھا اور بھلابدلہ دے، تو وہ غصہ ہوجاتا ، ہم نے حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے کہا : ہمارے ساتھ ایک شخص ہے جب ہم اسے جزاک اللہ خیراوبرا کہتے ہیں تو وہ ناراض ہوجاتا ہے، آپ نے فرمایا : اس کے لیے الفاظ تبدیل کردو، کیونکہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ جسے اچھائی تجھے برا اور خارش کا بدلہ دے تو وہ شخص ہنس پڑا اور کہنے لگا تو اپنا مذاق نہیں چھوڑتا، تو اس شخص نے حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے (آکر) کہا حضرت ابوایوب ! اللہ تعالیٰ آپ کو اچھا بدلہ دے۔ (ابن عساکر)
تشریح :۔۔۔ بڑوں کی باتیں بھی عظیم ہوتی ہیں، ان حضرات کار فراست اس قدر تیز تھا کہ بغیر آلات کے انسانی تشخیص کرلیا کرتے تھے۔