8541- "الصديق رضي الله عنه" عن أبي ضمرة يعني ابن حبيب بن ضمرة قال: حضرت الوفاة ابنا لأبي بكر، فجعل الفتى ينظر إلى وسادة فلما توفي قالوا لأبي بكر: رأينا ابنك يلحظ إلى الوسادة، فرفعوا عن الوسادة، فوجدوا تحتها خمسة دنانير، أو ستة دنانير، فضرب أبو بكر بيده على الأخرى يرجع يقول: إنا لله وإنا إليه راجعون، ما أحسب جلدك يتسع لها. "حم" في الزهد "حل" وله حكم الرفع، لأنه إخبار عن حال البرزخ.
٨٥٤١۔۔۔ (الصدیق (رض)) ابوضمرہ یعنی ابن حبیب ابن ضمرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر کے ایک بیٹے پر جان کنی کا عالم تھا، وہ نوجوان کی طرف دیکھنے لگا، جب اس کی وفات ہوگئی تو لوگوں نے حضرت صدیق اکبر سے کہا : ہم نے آپ کے فرزند کو دیکھا وہ تکیہ کی طرف دیکھ رہے تھے، انھوں نے تکیہ اٹھایا تو اس کے نیچے پانچ یا چھ دینار پائے۔ حضرت ابوبکر اپنا ہاتھ مل کر کہنے لگے، اناللہ وانا الیہ راجعون، مجھے اس کا گمان نہیں کہ تمہاری کھال اس کی وسعت رکھے گی۔ ( مسند احمد، فی الزھد، حلیۃ الاولیاء، ولہ حاکم الرفع، لانہ اخبار عن حال البررخ)