8546- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عمر أنه دخل عليه عمر وهو على مائدته، فأوسع له عن صدر المجلس، فقال: بسم الله بيده، فلقم لقمة، ثم ثنى بأخرى، ثم قال: إني أجد طعاما دسما، وما هو بدسم اللحم، فقال عبد الله: يا أمير المؤمنين، إني خرجت إلى السوق أطلب السمين لأشتريه فوجدته غاليا، فاشتريت بدرهم من المهزول وحملت عليه بدرهم سمنا، فقال أردت أن تردد لي عظما عظما، فقال ما اجتمعا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قط، إلا أكل أحدهما، وتصدق بالأخر، فقال عبد الله: خذ يا أمير المؤمنين، فلن يجتمعا عندي إلا فعلت ذلك، قال: ما كنت لأفعل. "هـ".
٨٥٤٦۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ان کے پاس حضرت عمر تشریف لائے اور میں اس وقت دسترخوان پر تھا ان کے لیے مجلس کے صدر مقام کو کشادہ کردیا گیا، آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے جس کے ہاتھ میں (سب کچھ) ہے پھر ایک لقمہ لیا، اور اس کے ساتھ دوسرا ملایا، فرمایا : مجھے یہ کھانا روغنی معلوم ہوتا ہے، جبکہ وہ گوشت کا روغن نہیں ہے۔
تو عبداللہ بن عمر نے عرض کیا : امیر المومنین ! میں بازار موٹا گوشت لینے گیا وہ مہنگا تھا، تو ایک درھم کا ذراکم درجہ گوشت خرید لیا اور اس پر ایک درہم کا گھی ڈلوالیا، آپ نے فرمایا تم میرے لیے ایک ایک ہڈی لوٹانا چاہتے ہو، پھر فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب بھی دوکھانے جمع ہوئے آپ نے ایک کھالیا اور دوسرا صدقہ کردیا، تو حضرت عبداللہ نے عرض کیا : اب کھالیں ! امیر المومنین ! اب جب بھی میرے پاس دوکھانے جمع ہوں گے میں ایسا ہی کروں کا حضرت عمر نے فرمایا : میں تو (ابھی ) کرنے والا ہوں۔ (ابن ماجہ)