8563- عن زيد بن علي قال: قال علي: في كلام له في ذم الدنيا: حال بينه وبين هذا التراب عبد من خلق الله يتعبد له، يرجو ما في يديه فيتعب بدنه في مرضاته، يجرح دينه ويضع مروءته، حتى تحول بينه وبين ربه، يرجو الله في الكبير ويرجو العبد في الصغير فيعطي العبد ما لا يعطي الرب كما قال الله: {يُصْهَرُ بِه} كما يصنع به وكذلك أن خاف عبدا من عبيده أعطاه في خوفه منه ما لا يعطي الله، وكذلك من عظمت الدنيا في عينه وكثر موقعها عنده آثرها على الله. العسكري في المواعظ.
٨٥٦٣۔۔۔ زیدبن علی سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت علی نے دنیا کی مذمت کے متعلق اپنی گفتگو میں فرمایا : اس کے اور اس کے درمیان مٹی حائل ہوگئی ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک بندہ اس کی عبادت کرتا ہے، جو اس کے ہاتھوں میں اس کی امید رکھتا ہے، اس کی رضا مندی میں اپنے بدن کو تھکاتا ہے اپنے دین کو زخمی کرنا اپنی عزت ومرؤت کو گھٹاتا ہے یہاں تک کہ وہ (دنیا) اس کے اور اس کے رب کے درمیان حائل ہوجاتی ہے، بڑئی چیزوں میں اللہ تعالیٰ سے اور جھوٹی چیزوں میں بندوں سے امید رکھتا ہے لہٰذا بندہ کو وہ چیز دیتا یے جو رب کو نہیں دیتاجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسے اس کے ذریعہ پکھلادیا جائے جیسا کہ اس کے ساتھ کیا جائے گا۔
اسی طرح اگر کسی بندے ست ڈرے اور اس کے خوف سے وہ چیز دے جو اللہ تعالیٰ کو نہیں دیتا ، اس طرح وہ شخص جس کی نگاہ میں دنیا کی عزت بڑھ جائے اور وہ قابل شان بن جائے تو وہ اسے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ترجیح اور فوقیت دے دیتا ہے۔ (العسکری فی المواعظ)