8579- عن ابن عباس قال: يؤتى بالدنيا يوم القيامة في صورة عجوز شمطاء زرقاء، أنيابها بادية، مشوه خلقها، تشرف على الخلائق، فيقال: تعرفون هذه؟ فيقولون: نعوذ بالله من معرفة هذه، فيقال: هذه الدنيا التي تناحرتم عليها، بها تقاطعتم، وبها تحاسدتم، وتباغضتم واغتررتم ثم تقذف في جهنم، فتنادي: أي رب أين أتباعي وأشياعي؟ فيقول الله عز وجل: ألحقوا بها أتباعها وأشياعها. أبو سعيد ابن الأعرابي في الزهد.
٨٥٧٩۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : قیامت کے روز دنیا کو ایک سفید بالوں اور نیلی آنکھوں والی بڑھیا کی صورت میں لایا جائے گا، اس کی داڑھیں ظاہر ہوں گی، وہ بدشکل ہوگی وہ لوگوں کے سامنے آئے گی، (لوگوں سے) کہا جائے گا : کیا اسے جانتے ہو ؟ وہ کہیں گے ہم اس کے پہچاننے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں ، تو کہا جائے گا یہ (وہی) دنیا ہے جس اسی کی وجہ سے تم نے آپس میں رشتے ناتے توڑے، آپس میں حسد کیا، باہم بغض رکھا، اور تم دھوکا میں پڑگئے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، وہ پکارکر کہے گی : اے میرے رب ! میری اتباع کرنے والے اور میری جماعت کہاں ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اس کے تابعین اور اس کی جماعت کو اس سے ملادیا جائے۔ (ابوسعید ابن الاعرابی فی الزھد)