8586- عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن عزيرا كان من المتعبدين، فرأى في منامه أنهارا تطرد، ونيرانا تشتعل، ثم نبه، ثم نام فرأى في منامه قطرة ماء كوبيص دمعة فهي في شرارة من نار في دجن ثم أنه نبه فكلم الله عز وجل، فقال: رب رأيت في منامي أنهارا تطرد، ونيرانا تشتعل، ورأيت أيضا قطرة من ماء كوبيص دمعة وشرارة من نار، فأجابه الله عز وجل: أما ما رأيت في الأول يا عزير أنهارا تطرد ونيرانا تشتعل، فما قد خلا من الدنيا، وأما ما رأيت من قطرة الماء كوبيص دمعة وشرارة من نار في دجن فما قد بقي من الدنيا. "كر" وفيه جميع بن ثوب منكر الحديث.
٨٥٨٦۔۔۔ ابوامامہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : عزیر ایک عابد شخص تھے انھوں نے خواب میں بہتی ہوئی نہریں اور چمکتی آگ دیکھی ، پھر وہ بیدار ہو کر دوبارہ سوگئے ، چنانچہ خواب میں پانی کا ایک قطرہ آنسو کے برابر آگ کا ایک شرارہ گھٹا ٹوپ بادل میں دیکھا، اس کے بعد ان کی آنکھ کھل گئی، انھوں اللہ تعالیٰ سے گفتگو کی اور کہا : اے میرے رب ! میں نے اپنے خواب میں بہتی نہریں چمکتی آگ دیکھی ہیں، اسی طرح پانی کا قطرہ جو آنسو کے برابر اور آگ کا شرارہ دیکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں جواب دیا : اے عزیر ! پہلی بار جو تم نے بہتی نہریں اور چمکتی آگ دیکھی ہیں تو یہ دنیا کا گزرا ہوا حصہ ہے، اور جو تم نے پانی کا قطرہ آنسو کی طرح اور شرارہ بادل میں دیکھا تو یہ دنیا کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ (ابن عساکر وفیہ ، جمیع بن ثوب منکر الحدیث)