hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8588

.

كنز العمال

8588
Kanz al-Ummal
8588- عن أبي الدرداء قال: كنت تاجرا قبل أن يبعث النبي صلى الله عليه وسلم، فلما بعث زاولت التجارة والعبادة، فلم يجتمعا، فأخذت العبادة، وتركت التجارة، والذي نفس أبي الدرداء بيده، ما أحب أن لي اليوم حانوتا على باب المسجد لا تخطئني فيه صلاة أربح فيه كل يوم أربعين دينارا أتصدق في سبيل الله، قيل له: لم يا أبا الدرداء؟ وما تكره من ذلك؟ قال: شدة الحساب. "كر".
٨٥٨٨۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے میں تاجر تھا، پھر جب آپ نے نبی بنادیئے گئے تو تجارت اور عبادت دونوں کرنے لگا، لیکن یہ دونوں جمع نہ ہوئیں ، تو میں نے عبادت اختیار کی اور تجارت چھوڑ دی، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوالدرداء کی جان ہے ! مجھے یہ پسند نہیں کہ آج مسجد کے دروازے پر میری دوکان ہو جہاں میری کوئی نماز نہ رہے اور ہر روز مجھے چالیس دینار کا منافع ہو اور میں اسے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صدقہ کروں، کسی نے ان سے کہا : اے ابودرداء ایسے کیوں ؟ اور آپ کیوں ناپسند کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : حساب کی شدت کی وجہ سے دیکھئے ! نظام جہاں کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا۔ ( ابن عساکر)