hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 8607

.

كنز العمال

8607
Kanz al-Ummal
8607- عن الشعبي أن رجلا أتى عمر بن الخطاب، فقال: إن لي ابنة كنت وأدتها في الجاهلية، فاستخرجناها قبل أن تموت، فأدركت معنا الإسلام فأسلمت، فلما أسلمت أصابها حد من حدود الله تعالى، فأخذت الشفرة لتذبح نفسها فأدركناها، وقد قطعت بعض أوداجها، فداويناها حتى برئت، ثم أقبلت بعد بتوبة حسنة وهي تخطب إلى قوم فأخبرهم من شأنها بالذي كان؟ فقال عمر: أتعمد إلى ما ستر الله فتبديه؛ والله لئن أخبرت بشأنها أحدا من الناس لأجعلنك نكالا لأهل الأمصار، بل أنكحها إنكاح العفيفة المسلمة. هناد والحارث.
٨٦٠٧۔۔۔ امام شعبی (رح) سے روایت ہے (فرماتے ہیں) کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور آکر کہا : میری ایک بیٹی ہے جسے میں نے زندہ درگور کردیا تھا لیکن ہم نے اسے مرنے سے پہلے باہر نکال لیا، اس نے ہمارے ساتھ اسلام کا زمانہ پایا، اور مسلمان ہوگئی ، پھر جب مسلمان ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی کوئی حد اس پر لگ گئی ، تو اس نے چھری لے کر اپنے آپ کو ذبح کرنا چاہا تو ہم نے اسے دیکھ لیا، اس اپنی کچھ رگیں کاٹ لی تھی ، ہم نے اس کا علاج معالجہ کیا تو وہ ٹھیک ہوگئی، پھر اس نے اچھی توبہ کی، اب کسی قوم کی طرف ست اس کا رشتہ آیا ہے کیا میں اس کی حالت سے انھیں آگاہ کروں ؟
حضرت عمر نے فرمایا : کیا تم اس چیز کو ظاہر کرنے ارادہ کرتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے چھپایا ہے اللہ تعالیٰ کی قسم ! اگر لوگوں میں سے کسی کو بھی تم نے اس کی حالت سے خبردار کیا تو میں تمہیں شہر والوں کے لیے عبرت کا نشان بنادوں گا، بلکہ اس کا نکاح پاکدامن مسلمان کی طرح کرو۔ (ھناد الحارث)
تشریح :۔۔۔ عموماً لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ خود بخود دوسروں کے عیوب بتانا شروع کردیتے ہیں، اپنے ملنے والوں سے یہ بات پہلے کردی جائے کہ بھئی میرے سامنے کسی کی برائی نہ کی جائے ورنہ اس برائی کا سدباب مشکل ہے۔