8609- عن جرير قال: تنفس رجل ونحن خلف عمر بن الخطاب فصلى، فلما انصرف قال: أعزم على صاحبها إلا قام فتوضأ، فأعاد صلاته، فلم يقم أحد، فقلت يا أمير المؤمنين لا تعزم عليه، ولكن اعزم علينا كلنا فتكون صلاتنا تطوعا، وصلاته الفريضة، فقال عمر: فإني أعزم عليكم، وعلى نفسي فتوضأوا وأعادوا الصلاة. ابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف.
٨٦٠٩۔۔۔ حضرت جریر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، (دوران نماز) ایک شخص نے سانس لیا، حضرت عمر نماز سے فارغ ہوئے تو فرمانے لگے : میں اس سانس والے کو قسم دیتا ہوں کہ وہ اٹھے اور وضوکرکے اپنی نماز لوٹائے، تو کوئی بھی نہ اٹھا، میں نے کہا : امیرالمومنین ! اسے قسم نہ دیں بلکہ ہم سب سے کہیں یوں ہماری نماز نقل ہوجائے گی، اور اس ایک شخص کی فرض ، تو حضرت عمر نے فرمایا : میں تمہیں اور اپنے آپ سب کو کہتا ہوں کہ ایسا کرو چنانچہ انھوں نے وضو کیا اور پھر نماز دہرائی۔ (ابن ابی الدنیا فی کتاب الاشراف)